EN हिंदी
ایسے ڈرے ہیں کس کی نگاہ غضب سے ہم | شیح شیری
aise Dare hain kis ki nigah-e-ghazab se hum

غزل

ایسے ڈرے ہیں کس کی نگاہ غضب سے ہم

مصحفی غلام ہمدانی

;

ایسے ڈرے ہیں کس کی نگاہ غضب سے ہم
بد خواب ہو گئے ہیں جو دو چار شب سے ہم

کب کامیاب بوسہ ہوئے اس کے لب سے ہم
شرمندہ ہی رہے دل مطلب مطلب سے ہم

بوسہ نہ لے سکے کف پا کا ادب سے ہم
کاٹیں ہیں اس لیے کف افسوس شب سے ہم

سوداگر صفائے دل بے غبار ہیں
اجناس شیشہ لائے ہیں شہر حلب سے ہم

یہ روز ڈھونڈھ لائے ہے اک خوبرو نیا
شاکی ہیں اپنے ہی دل آفت طلب سے ہم

کشتی ہماری بحر کی ہے مانجدھار میں
نکلے ہیں کب کشاکش لطف و غضب سے ہم

طرز خرام ناز کی بے اعتدالیاں
دیکھیں ہیں اور کچھ نہیں کہتے ادب سے ہم

برقعے میں ہو کہ پردۂ چادر میں خوبرو
پہچانتے ہیں وضع سے شوخی سے چھب سے ہم

شغل شراب و شیشہ و ساقیٔ نغمہ سنج
تائب ہوئے ہیں عالم پیری میں سب سے ہم

بے لطف زندگی کے ہیں دن آ بھی اے اجل
تیرے ہی انتظار میں بیٹھے ہیں کب سے ہم

فن اتنا کم کیا ہے کہ ان روزوں مصحفیؔ
دل میں اک انس رکھتے ہیں شعر عرب سے ہم