EN हिंदी
اے عشق تیری اب کے وہ تاثیر کیا ہوئی | شیح شیری
ai ishq teri ab ke wo tasir kya hui

غزل

اے عشق تیری اب کے وہ تاثیر کیا ہوئی

مصحفی غلام ہمدانی

;

اے عشق تیری اب کے وہ تاثیر کیا ہوئی
شور جنوں کدھر گیا زنجیر کیا ہوئی

دیوانہ پن کا میرے جو کرتے نہیں علاج
تدبیر کرنے والوں کی تدبیر کیا ہوئی

آگو کی طرح آپ جو اب بولتے نہیں
کیا جانے ایسی ہم سے وہ تقصیر کیا ہوئی

ہم نے تو تم کو دوڑ کے کولی میں بھر لیا
فرمائیے اب آپ کی شمشیر کیا ہوئی

کی تھی جو میں مرقع عالم سے انتخاب
اے مصحفیؔ دریغ وہ تصویر کیا ہوئی