EN हिंदी
عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیں | شیح شیری
aashiq kahen hain jinko wo be-nang log hain

غزل

عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

;

عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیں
معشوق جن کا نام ہے وہ سنگ لوگ ہیں

کس طرح کسبیوں سے رکھے کوئی جی بچا
سب جانتے ہیں ان کو یہ سرہنگ لوگ ہیں

مجنوں تو جا کے دشت میں فریاد کر کہ آئے
نالے سے تیرے شہر کے دل تنگ لوگ ہیں

عالم کے صوفیوں کے کوئی کیا سمجھ سے
ہر رنگ سے جدا ہیں یہ بے رنگ لوگ ہیں

ہم تو نہ لعل لب کا ترے بوسہ لے سکے
رکھتے ہیں یہ خیال جو بے ڈھنگ لوگ ہیں

اترا ہے کون آب میں یہ جس کے حسن سے
حیراں کھڑے ہوئے بہ لب گنگ لوگ ہیں

میرے لغات شعر کے عالم کو مصحفیؔ
سمجھیں ہیں وہ جو صاحب فرہنگ لوگ ہیں