EN हिंदी
آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں | شیح شیری
aarzuen hazar rakhte hain

غزل

آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں

میر تقی میر

;

آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں

برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو
دل کو بے قرار رکھتے ہیں

غیر ہی مورد عنایت ہے
ہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں

نہ نگہ نے پیام نے وعدہ
نام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں

ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تو
لب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں

چوٹٹے دل کے ہیں بتاں مشہور
بس یہی اعتبار رکھتے ہیں

پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشق
ہیں جواں اختیار رکھتے ہیں