آراستہ بزم عیش ہوئی اب رند پئیں گے کھل کھل کے
جھکتی ہے صراحی ساغر پر نغمے ہیں فضا میں قلقل کے
آ تجھ کو بنا دوں رشک چمن میزان محبت میں تل کے
عارض کو گلوں کی رعنائی بل زلف کو بخشوں سنبل کے
گلشن میں بہار آئے کہ خزاں مرجھائے کلی یا پھول کھلیں
صیاد تجھے کیا مطلب ہے تو اشک گنے جا بلبل کے
ہم اہل چمن کی نظروں میں کچھ اور ہی معنیٰ رکھتا ہے
کلیوں کا چٹک کر کھل جانا پھولوں کا نکھرنا دھل دھل کے
وہ چین تو شاید رضواں کو جنت میں کیا ملتا ہوگا
جو مجھ کو سکوں مل جاتا ہے سائے میں کسی کی کاکل کے
عشاق کے مرنے جینے کو اتنی ہی لگاوٹ کافی ہے
اک چوٹ سی ترچھی نظروں کے دو چار جھکولے کاکل کے
کون اس کی فضاؤں میں آ کر تخریب کے شعلے پھونک گیا
آخر یہ وہی تو گلشن ہے رہتے تھے جہاں ہم مل جل کے
اس دور کے پاگل انسانوں نفرت کی فراوانی کب تک
گر آج نہیں تو کل تم کو رہنا ہی پڑے گا مل جل کے
گر حد سے سوا پی لو گے فلکؔ پھر ہوش کہاں مے خانے کا
دو چار ہی قطرے کافی ہیں پیچھے نہ پڑھو جام مل کے

غزل
آراستہ بزم عیش ہوئی اب رند پئیں گے کھل کھل کے
ہیرا لال فلک دہلوی