آہ زنداں میں جو کی چرخ پہ آواز گئی
پر گئے پر نہ مری خواہش پرواز گئی
یاد اتنا ہے مرے لب پہ فغاں آئی تھی
پھر خدا جانے کہاں دل کی یہ آواز گئی
میں نے انجام سے پہلے نہ پلٹ کر دیکھا
دور تک ساتھ مرے منزل آغاز گئی
موت جس راہ میں گھبرا کے قدم رکھتی تھی
زندگی اپنی وہاں بھی بصد انداز گئی
پر بھی بازو کے تھے مضبوط عزائم پختہ
پھر بھی بے کار مری کوشش پرواز گئی
دیکھتے دیکھتے خاموش ہوا نغمۂ دل
تار جب ٹوٹ گئے ساز کی آواز گئی
اے فلکؔ میں جو گیا سوئے فلک شور ہوا
محفل دہر سے اک ہستیٔ ممتاز گئی

غزل
آہ زنداں میں جو کی چرخ پہ آواز گئی
ہیرا لال فلک دہلوی