آگے پیچھے اس کا اپنا سایہ لہراتا رہا
خوف سے اس شخص کا چہرہ سدا پیلا رہا
صبح کو دیکھا تو وہ مجھ سے تھا بالکل اجنبی
رات بھر جو جسم کے اندر مجھے تکتا رہا
کیسا دیوانہ تھا سب کچھ جان کر انجان تھا
ہر کسی سے وہ گلے ملتا رہا روتا رہا
یہ خطا میری تھی تجھ کو میں نے پہچانا نہیں
آئینے میں جانے مجھ کو کیا نظر آتا رہا
خود نمائی کے لیے ترکیب تھی اچھی بہت
لوگ سب خاموش تھے وہ کچھ نہ کچھ کہتا رہا
ہم نے دیواروں پہ اس کو کر دیا چسپاں مگر
اپنے گھر میں وہ بڑے آرام سے سویا رہا
سب برہنہ تن ہوئے منظورؔ جب محفل کی جاں
اپنے گھر میں چھپ کے خاموشی سے میں بیٹھا رہا
غزل
آگے پیچھے اس کا اپنا سایہ لہراتا رہا
حکیم منظور