EN हिंदी
سایا شیاری | شیح شیری

سایا

25 شیر

کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی
دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے

احمد مشتاق




لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیں
میں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیرا

احمد ندیم قاسمی




وہ اور ہوں گے جو کار ہوس پہ زندہ ہیں
میں اس کی دھوپ سے سایہ بدل کے آیا ہوں

اکبر معصوم




کب دھوپ چلی شام ڈھلی کس کو خبر ہے
اک عمر سے میں اپنے ہی سائے میں کھڑا ہوں

اختر ہوشیارپوری




سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا اب تو اے اثرؔ
پھر کس لیے میں آج کو کل سے جدا کروں

اثر اکبرآبادی




زاویہ دھوپ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ ہم
سائے کو جسم کی جنبش سے جدا دیکھتے ہیں

عاصمؔ واسطی




آسماں ایک سلگتا ہوا صحرا ہے جہاں
ڈھونڈھتا پھرتا ہے خود اپنا ہی سایا سورج

آزاد گلاٹی