EN हिंदी
ولی محمد ولی شیاری | شیح شیری

ولی محمد ولی شیر

22 شیر

کشن کی گوپیاں کی نئیں ہے یہ نسل
رہیں سب گوپیاں وہ نقل یہ اصل

ولی محمد ولی




خوب رو خوب کام کرتے ہیں
یک نگہ میں غلام کرتے ہیں

ولی محمد ولی




آج تیری بھواں نے مسجد میں
ہوش کھویا ہے ہر نمازی کا

ولی محمد ولی




جامہ زیبوں کو کیوں تجوں کہ مجھے
گھیر رکھتا ہے دور دامن کا

ولی محمد ولی




ہر ذرہ اس کی چشم میں لبریز نور ہے
دیکھا ہے جس نے حسن تجلی بہار کا

ولی محمد ولی




گل ہوئے غرق آب شبنم میں
دیکھ اس صاحب حیا کی ادا

ولی محمد ولی




دل عشاق کیوں نہ ہو روشن
جب خیال صنم چراغ ہوا

ولی محمد ولی




دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مطلع انوار کا

ولی محمد ولی




چھپا ہوں میں صدائے بانسلی میں
کہ تا جانوں پری رو کی گلی میں

ولی محمد ولی