قدردانی کی کیفیت معلوم
عیب کیا ہے اگر ہنر نہ ہوا
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
تمہارا مدعا ہی جب سمجھ میں کچھ نہیں آیا
تو پھر مجھ پر نظر ڈالی یہ تم نے مہرباں کیسی
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
تھا قفس کا خیال دامن گیر
اڑ سکے ہم نہ بال و پر لے کر
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
تیرا مرنا عشق کا آغاز تھا
موت پر ہوگا مرے انجام عشق
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
سینے میں مرے داغ غم عشق نبی ہے
اک گوہر نایاب مرے ہاتھ لگا ہے
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
سچ کہا ہے کہ بہ امید ہے دنیا قائم
دل حسرت زدہ بھی تیرا تمنائی ہے
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
رخ روشن سے یوں اٹھی نقاب آہستہ آہستہ
کہ جیسے ہو طلوع آفتاب آہستہ آہستہ
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
میرا مقصد کہ وہ خوش ہوں مری خاموشی سے
ان کو اندیشہ کہ یہ بھی کوئی فریاد نہ ہو
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
مرے تو دل میں وہی شوق ہے جو پہلے تھا
کچھ آپ ہی کی طبیعت بدل گئی ہوگی
وحشتؔ رضا علی کلکتوی

