لرزتے کانپتے ہاتھوں سے بوڑھا
چلم میں پھر کوئی دکھ بھر رہا تھا
شارق کیفی
پہلی بار وہ خط لکھا تھا
جس کا جواب بھی آ سکتا تھا
شارق کیفی
نیند کے واسطے ویسے بھی ضروری ہے تھکن
پیاس بھڑکائیں کسی سائے کا پیچھا کر آئیں
شارق کیفی
نیا یوں ہے کہ ان دیکھا ہے سب کچھ
یہاں تک روشنی آتی کہاں تھی
شارق کیفی
موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولی
ایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے
شارق کیفی
منزلوں پر ہم ملیں یہ طے ہوا
واپسی میں ساتھ پکا کر لیا
شارق کیفی
میں کسی دوسرے پہلو سے اسے کیوں سوچوں
یوں بھی اچھا ہے وہ جیسا نظر آتا ہے مجھے
شارق کیفی
کس احساس جرم کی سب کرتے ہیں توقع
اک کردار کیا تھا جس میں قاتل تھا میں
شارق کیفی
کون تھا وہ جس نے یہ حال کیا ہے میرا
کس کو اتنی آسانی سے حاصل تھا میں
شارق کیفی

