راس آئی کچھ اس طرح شبدوں کی جاگیر
شاہدؔ پیچھے رہ گئے آگے بڑھ گئے میرؔ
شاہد میر
ذہن میں تو آنکھوں میں تو دل میں ترا وجود
میرا تو بس نام ہے ہر جا تو موجود
شاہد میر
وہی سفاک ہواؤں کا صدف بنتے ہیں
جن درختوں کا نکلتا ہوا قد ہوتا ہے
شاہد میر
تجھ کو دیکھا نہیں محسوس کیا ہے میں نے
آ کسی دن مرے احساس کو پیکر کر دے
شاہد میر
تعطیلیں رخصت ہوئیں کھلے سبھی اسکول
سڑکوں پر کھلنے لگے پیارے پیارے پھول
شاہد میر
شجر نے لہلہا کر اور ہوا نے چوم کر مجھ کو
تری آمد کے افسانے سنائے جھوم کر مجھ کو
شاہد میر
شب گزری بجھنے لگا روشنیوں کا شہر
لوٹی ساحل کی طرف تھکی تھکی اک لہر
شاہد میر
شاہدؔ لکھنا ہے مجھے یہ کس کی تعریف
ڈرا ڈرا سا قافیہ سہمی ہوئی ردیف
شاہد میر
رونے سے اور لطف وفاؤں کا بڑھ گیا
سب ذائقہ پھلوں میں نئے پانیوں کا ہے
شاہد میر

