EN हिंदी
سیماب اکبرآبادی شیاری | شیح شیری

سیماب اکبرآبادی شیر

44 شیر

محبت میں اک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر

سیماب اکبرآبادی




روز کہتا ہوں کہ اب ان کو نہ دیکھوں گا کبھی
روز اس کوچے میں اک کام نکل آتا ہے

سیماب اکبرآبادی




رنگ بھرتے ہیں وفا کا جو تصور میں ترے
تجھ سے اچھی تری تصویر بنا لیتے ہیں

سیماب اکبرآبادی




قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے
کہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے

سیماب اکبرآبادی




پریشاں ہونے والوں کو سکوں کچھ مل بھی جاتا ہے
پریشاں کرنے والوں کی پریشانی نہیں جاتی

سیماب اکبرآبادی




نشاط حسن ہو جوش وفا ہو یا غم عشق
ہمارے دل میں جو آئے وہ آرزو ہو جائے

سیماب اکبرآبادی




مری دیوانگی پر ہوش والے بحث فرمائیں
مگر پہلے انہیں دیوانہ بننے کی ضرورت ہے

سیماب اکبرآبادی




منزل ملی مراد ملی مدعا ملا
سب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا

destination and desire and my ends attained
i got everything when your footprints I obtained

سیماب اکبرآبادی




مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آ رہا ہوں میں

سیماب اکبرآبادی