قندیل مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا
کچھ اس سے زیادہ ہے مرا خاک پہ ہونا
ثروت حسین
سوچتا ہوں دیار بے پروا
کیوں مرا احترام کرنے لگا
ثروت حسین
سیاہی پھیرتی جاتی ہیں راتیں بحر و بر پہ
انہی تاریکیوں سے مجھ کو بھی حصہ ملے گا
ثروت حسین
شہزادی تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک
کتنی محرابیں پڑتی ہیں کتنے در آتے ہیں
ثروت حسین
ثروتؔ تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو
جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہوگا
ثروت حسین
نئی نئی سی آگ ہے یا پھر کون ہے وہ
پیلے پھولوں گہرے سرخ لبادوں والی
ثروت حسین
مرے سینے میں دل ہے یا کوئی شہزادۂ خود سر
کسی دن اس کو تاج و تخت سے محروم کر دیکھوں
ثروت حسین
سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوں
بچ نکلنے کے بعد کیا ہوگا
ثروت حسین
پاؤں ساکت ہو گئے ثروتؔ کسی کو دیکھ کر
اک کشش مہتاب جیسی چہرۂ دل بر میں تھی
ثروت حسین

