EN हिंदी
سلام سندیلوی شیاری | شیح شیری

سلام سندیلوی شیر

21 شیر

کیا اسی کو بہار کہتے ہیں
لالہ و گل سے خوں ٹپکتا ہے

سلام سندیلوی




خوشی کے پھول کھلے تھے تمہارے ساتھ کبھی
پھر اس کے بعد نہ آیا بہار کا موسم

سلام سندیلوی




آئے جو چند تنکے قفس میں صبا کے ساتھ
میں نے انہیں کو اپنا نشیمن سمجھ لیا

سلام سندیلوی




ہوئی صبح جام کھنک اٹھے ہوئی شام نغمے بکھر گئے
وہ حسین دن بھی تھے کس قدر جو تمہارے ساتھ گزر گئے

سلام سندیلوی




ہمیشہ دور کے جلوے فریب دیتے ہیں
ہے ورنہ چاند بیاباں کسی کو کیا معلوم

سلام سندیلوی




ہے تشنہ لبی لیکن ہم کیوں اسے زحمت دیں
اپنا ہی لہو پی لیں ساقی کو جگائیں کیا

سلام سندیلوی




گل و غنچہ اصل میں ہیں تری گفتگو کی شکلیں
کبھی کھل کے بات کہہ دی کبھی کر دیا اشارا

سلام سندیلوی




گلوں کے روپ میں بکھرے ہیں ہر طرف کانٹے
چلے جو کوئی تو دامن ذرا بچا کے چلے

سلام سندیلوی




دل کی دھڑکن بھی ہے ان کو ناگوار
ان سے کچھ کہنے کی جرأت کیا کریں

سلام سندیلوی