EN हिंदी
سخی لکھنوی شیاری | شیح شیری

سخی لکھنوی شیر

54 شیر

نہ چھوڑا ہجر میں بھی خانۂ تن
رگڑوائے گی کب تک ایڑیاں روح

سخی لکھنوی




رہتے کعبہ میں اکیلے کیا ہم
دل لگانے کو صنم بھی تو نہ تھے

سخی لکھنوی




رنگت اس رخ کی گل نے پائی ہے
اور پسینے کی بو گلاب میں ہے

سخی لکھنوی




قافلہ جاتا ہے ساغر کی طرف رندوں کا
ہے مگر قلقل مینا جرس جام شراب

سخی لکھنوی




پوجنا بت کا ہے یہ کیا مضمون
اور طواف حرم کے کیا معنی

سخی لکھنوی




نزع کے دم بھی انہیں ہچکی نہ آئے گی کبھی
یوں ہی گر بھولے رہیں گے وہ سخیؔ کی یاد کو

سخی لکھنوی




نقد دل کا بڑا تقاضا ہے
گویا ان کی زمیں جوتے ہیں

سخی لکھنوی




کیوں حسینوں کی آنکھوں سے نہ لڑے
میری پتلی کی مردمی ہی تو ہے

سخی لکھنوی




لی زباں اس کی جو منہ میں ہو گیا ذوق نبات
انگلیاں چوسیں تو ذوق نیشکر پیدا ہوا

سخی لکھنوی