پہلے بھی خدا کو مانتا تھا
اور اب بھی خدا کو مانتا ہوں
صابر ظفر
صبح کی سیر کی کرتا ہوں تمنا شب بھر
دن نکلتا ہے تو بستر میں پڑا رہتا ہوں
صابر ظفر
شکایت اس سے نہیں اپنے آپ سے ہے مجھے
وہ بے وفا تھا تو میں آس کیوں لگا بیٹھا
صابر ظفر
شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا
زندگی میں تجھے ناکام نہ ہونے دوں گا
صابر ظفر
شاعری پھول کھلانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے تو ظفرؔ
باغ ہی کوئی لگاتا کہ جہاں کھیلتے بچے جا کر
صابر ظفر
سر شام لٹ چکا ہوں سر عام لٹ چکا ہوں
کہ ڈکیت بن چکے ہیں کئی شہر کے سپاہی
صابر ظفر
نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں
کوئی چھوڑ گیا یہ شہر تو کیا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں
صابر ظفر
مڑ کے جو آ نہیں پایا ہوگا اس کوچے میں جا کے ظفرؔ
ہم جیسا بے بس ہوگا ہم جیسا تنہا ہوگا
صابر ظفر
نہ انتظار کرو ان کا اے عزا دارو
شہید جاتے ہیں جنت کو گھر نہیں آتے
صابر ظفر

