طناب خیمۂ گل تھام ناصرؔ
کوئی آندھی افق سے آ رہی ہے
ناصر کاظمی
سارا دن تپتے سورج کی گرمی میں جلتے رہے
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پھر چلی سو رہو سو رہو
ناصر کاظمی
شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
ناصر کاظمی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
ناصر کاظمی
سورج سر پہ آ پہنچا
گرمی ہے یا روز جزا
ناصر کاظمی
تیری مجبوریاں درست مگر
تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
ناصر کاظمی
ترے فراق کی راتیں کبھی نہ بھولیں گی
مزے ملے انہیں راتوں میں عمر بھر کے مجھے
ناصر کاظمی
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے
ناصر کاظمی
رہ نورد بیابان غم صبر کر صبر کر
کارواں پھر ملیں گے بہم صبر کر صبر کر
ناصر کاظمی

