EN हिंदी
نفس انبالوی شیاری | شیح شیری

نفس انبالوی شیر

23 شیر

ساری گواہیاں تو مرے حق میں آ گئیں
لیکن مرا بیان ہی میرے خلاف تھا

نفس انبالوی




نگاہوں کے مناظر بے سبب دھندھلے نہیں پڑتے
ہماری آنکھ میں دریا کوئی ٹھہرا ہوا ہوگا

نفس انبالوی




مرے خیال کی پرواز بس تمہیں تک تھی
پھر اس کے بعد مجھے کوئی آسماں نہ ملا

نفس انبالوی




اب کہاں تک پتھروں کی بندگی کرتا پھروں
دل سے جس دم بھی پکاروں گا خدا مل جائے گا

نفس انبالوی




مرنے کو مر بھی جاؤں کوئی مسئلہ نہیں
لیکن یہ طے تو ہو کہ ابھی جی رہا ہوں میں

نفس انبالوی




جب بھی اس دیوار سے ملتا ہوں رو پڑتا ہوں میں
کچھ نہ کچھ تو ہے یقیناً اس میں پتھر سے الگ

نفس انبالوی




اس شہر میں خوابوں کی عمارت نہیں بنتی
بہتر ہے کہ تعمیر کا نقشہ ہی بدل لو

نفس انبالوی




انکار کر رہا ہوں تو قیمت بلند ہے
بکنے پہ آ گیا تو گرا دیں گے دام لوگ

نفس انبالوی




ہمیں دنیا فقط کاغذ کا اک ٹکڑا سمجھتی ہے
پتنگوں میں اگر ڈھل جائیں ہم تو آسماں چھو لیں

نفس انبالوی