صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
محسن نقوی
شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
محسن نقوی
پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے
محسن نقوی
موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
محسن نقوی
لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
محسن نقوی
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
محسن نقوی
کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
محسن نقوی
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو
محسن نقوی
کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں
محسن نقوی

