محسنؔ اور بھی نکھرے گا ان شعروں کا مفہوم
اپنے آپ کو پہچانیں گے جیسے جیسے لوگ
محسنؔ بھوپالی
محسنؔ اپنائیت کی فضا بھی تو ہو
صرف دیوار و در کو مکاں مت سمجھ
محسنؔ بھوپالی
لفظوں کو اعتماد کا لہجہ بھی چاہئے
ذکر سحر بجا ہے یقین سحر بھی ہے
محسنؔ بھوپالی
لفظوں کے احتیاط نے معنی بدل دیئے
اس اہتمام شوق میں حسن اثر گیا
محسنؔ بھوپالی
اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہے
سر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے
محسنؔ بھوپالی
کوئی صورت نہیں خرابی کی
کس خرابے میں بس رہا ہے جسم
محسنؔ بھوپالی
کس قدر نادم ہوا ہوں میں برا کہہ کر اسے
کیا خبر تھی جاتے جاتے وہ دعا دے جائے گا
محسنؔ بھوپالی
خندۂ لب میں نہاں زخم ہنر دیکھے گا کون
بزم میں ہیں سب کے سب اہل نظر دیکھے گا کون
محسنؔ بھوپالی
جو ملے تھے ہمیں کتابوں میں
جانے وہ کس نگر میں رہتے ہیں
محسنؔ بھوپالی

