EN हिंदी
جتیندر موہن سنہا رہبر شیاری | شیح شیری

جتیندر موہن سنہا رہبر شیر

20 شیر

کھنچتے جاتے ہیں خود مری جانب
مجھ کو جیوں جیوں وہ آزماتے ہیں

جتیندر موہن سنہا رہبر




آنکھوں آنکھوں میں پلا دی مرے ساقی نے مجھے
خوف ذلت ہے نہ اندیشۂ رسوائی ہے

جتیندر موہن سنہا رہبر




ہر شے میں ہر بشر میں نظر آ رہا ہے تو
سجدے میں اپنے سر کو جھکاؤں کہاں کہاں

جتیندر موہن سنہا رہبر




ہم رو بہ روئے شمع ہیں اس انتظار میں
کچھ جاں پروں میں آئے تو اڑ کر نثار ہوں

جتیندر موہن سنہا رہبر




ہے فہم اس کا جو ہر انسان کے دل کی زباں سمجھے
سخن وہ ہے جسے ہر شخص اپنا ہی بیاں سمجھے

جتیندر موہن سنہا رہبر




فرشتہ ہر بشر کو ہر زمیں کو آسماں سمجھے
کہ ہم تو عشق میں دنیا کو ہی جنت نشاں سمجھے

جتیندر موہن سنہا رہبر




ایک آنسو بھی اگر رو دے تو جانوں تجھ کو
میری تقدیر مجھے دیکھ کر ہنستی کیا ہے

جتیندر موہن سنہا رہبر




دوزخ سے بھی خراب کہوں میں بہشت کو
دو چار اگر وہاں پہ بھی سرمایہ دار ہوں

جتیندر موہن سنہا رہبر




دل اس کا جگر اس کا ہے جاں اس کی ہم اس کے
کس بات سے انکار کیا جائے کسی کو

جتیندر موہن سنہا رہبر