EN हिंदी
جاوید اختر شیاری | شیح شیری

جاوید اختر شیر

43 شیر

میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن
مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے

جاوید اختر




سب کا خوشی سے فاصلہ ایک قدم ہے
ہر گھر میں بس ایک ہی کمرہ کم ہے

جاوید اختر




پھر خموشی نے ساز چھیڑا ہے
پھر خیالات نے لی انگڑائی

جاوید اختر




نیکی اک دن کام آتی ہے ہم کو کیا سمجھاتے ہو
ہم نے بے بس مرتے دیکھے کیسے پیارے پیارے لوگ

جاوید اختر




مجھے مایوس بھی کرتی نہیں ہے
یہی عادت تری اچھی نہیں ہے

جاوید اختر




مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے
کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا

جاوید اختر




میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا
مرے انجام کی وہ ابتدا تھی

جاوید اختر




خون سے سینچی ہے میں نے جو زمیں مر مر کے
وہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے

جاوید اختر




کوئی شکوہ نہ غم نہ کوئی یاد
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی

جاوید اختر