EN हिंदी
اسماعیلؔ میرٹھی شیاری | شیح شیری

اسماعیلؔ میرٹھی شیر

55 شیر

نعمت خلد تھی بشر کے لئے
خاک چاٹی نظر گزر کے لئے

اسماعیلؔ میرٹھی




سمجھتے ہیں شیروں کو بھی نرم چارہ
غزالان شہری سے ہشیار رہنا

اسماعیلؔ میرٹھی




سیر ورود قافلۂ نو بہار دیکھ
برپا خیام اوج ہوا میں گھٹا کے ہیں

اسماعیلؔ میرٹھی




سب کچھ تو کیا ہم نے پہ کچھ بھی نہ کیا ہائے
حیران ہیں کیا جانیے کیا ہو نہیں سکتا

اسماعیلؔ میرٹھی




روز جزا میں آخر پوچھا نہ جائے گا کیا
تیرا یہ چپ لگانا میرا سوال کرنا

اسماعیلؔ میرٹھی




روشن ہے آفتاب کی نسبت چراغ سے
نسبت وہی ہے آپ میں اور آفتاب میں

اسماعیلؔ میرٹھی




پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں
کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا

اسماعیلؔ میرٹھی




کیا ہے وہ جان مجسم جس کے شوق دید میں
جامۂ تن پھینک کر روحیں بھی عریاں ہو گئیں

اسماعیلؔ میرٹھی




کیا ہو گیا اسے کہ تجھے دیکھتی نہیں
جی چاہتا ہے آگ لگا دوں نظر کو میں

اسماعیلؔ میرٹھی