تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو
اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست!
ادریس بابر
مر گیا خاص طور پر میں بھی
جس طرح عام لوگ مرتے ہیں
ادریس بابر
موت کی پہلی علامت صاحب
یہی احساس کا مر جانا ہے
ادریس بابر
موت اکتا چکی ریہرسل میں
روز دو چار شخص مرتے ہیں
ادریس بابر
مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں
جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے
ادریس بابر
پر نہیں ہوتے خیالوں کے تو پھر
کیسے اڑتے ہیں غبارا سمجھو
ادریس بابر
پھول ہے جو کتاب میں اصل ہے کہ خواب ہے
اس نے اس اضطراب میں کچھ نہ پڑھا لکھا تو پھر
ادریس بابر
تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا
ادریس بابر
یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں
ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں
ادریس بابر

