EN हिंदी
غلام محمد قاصر شیاری | شیح شیری

غلام محمد قاصر شیر

40 شیر

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا
جدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا

غلام محمد قاصر




سایوں کی زد میں آ گئیں ساری غلام گردشیں
اب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں

غلام محمد قاصر




پیار گیا تو کیسے ملتے رنگ سے رنگ اور خواب سے خواب
ایک مکمل گھر کے اندر ہر تصویر ادھوری تھی

غلام محمد قاصر




پہلے اک شخص میری ذات بنا
اور پھر پوری کائنات بنا

غلام محمد قاصر




نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا
آج پھر شبنمیں آنکھوں سے ورق دھوتا ہے

غلام محمد قاصر




کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں
ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں

غلام محمد قاصر




کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

غلام محمد قاصر




خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد
میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی

غلام محمد قاصر




سب سے اچھا کہہ کے اس نے مجھ کو رخصت کر دیا
جب یہاں آیا تو پھر سب سے برا بھی میں ہی تھا

غلام محمد قاصر