مزاج الگ سہی ہم دونوں کیوں الگ ہوں کہ ہیں
سراب و آب میں پوشیدہ قربتیں کیا کیا
فضیل جعفری
جو بھر بھی جائیں دل کے زخم دل ویسا نہیں رہتا
کچھ ایسے چاک ہوتے ہیں جو جڑ کر بھی نہیں سلتے
فضیل جعفری
کس درد سے روشن ہے سیہ خانۂ ہستی
سورج نظر آتا ہے ہمیں رات گئے بھی
فضیل جعفری
کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیلؔ
زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو
فضیل جعفری
میں اور مری ذات اگر ایک ہی شے ہیں
پھر برسوں سے دونوں میں صف آرائی سی کیوں ہے
فضیل جعفری
منزلیں سمتیں بدلتی جا رہی ہیں روز و شب
اس بھری دنیا میں ہے انسان تنہا راہ رو
فضیل جعفری
یہ سچ ہے ہم کو بھی کھونے پڑے کچھ خواب کچھ رشتے
خوشی اس کی ہے لیکن حلقۂ شر سے نکل آئے
فضیل جعفری
ضد میں دنیا کی بہرحال ملا کرتے تھے
ورنہ ہم دونوں میں ایسی کوئی الفت بھی نہ تھی
فضیل جعفری
زہر میٹھا ہو تو پینے میں مزا آتا ہے
بات سچ کہیے مگر یوں کہ حقیقت نہ لگے
فضیل جعفری

