EN हिंदी
فگار اناوی شیاری | شیح شیری

فگار اناوی شیر

33 شیر

مایوس دلوں کو اب چھیڑو بھی تو کیا حاصل
ٹوٹے ہوئے پیمانے فریاد نہیں کرتے

فگار اناوی




پھولوں کو گلستاں میں کب راس بہار آئی
کانٹوں کو ملا جب سے اعجاز مسیحائی

فگار اناوی




پرتو حسن سے ذرے بھی بنے آئینے
کتنے جلوے کئے ارزاں تری رعنائی نے

فگار اناوی




میری جبین شوق نے سجدے جہاں کئے
وہ آستاں بنا جو کبھی آستاں نہ تھا

فگار اناوی




محفل کون و مکاں تیری ہی بزم ناز ہے
ہم کہاں جائیں گے اس محفل سے اٹھ جانے کے بعد

فگار اناوی




کسی سے شکوۂ محرومئی نیاز نہ کر
یہ دیکھ لے کہ تری آرزو تو خام نہیں

فگار اناوی




کس کام کا ایسا دل جس میں رنجش ہے غبار ہے کینہ ہے
ہم کو ہے ضرورت اس دل کی سب جس کو کہیں آئینہ ہے

فگار اناوی




قدم اپنے حریم ناز میں اس شوق سے رکھنا
کہ جو دیکھے مرے دل کو تمہارا آستاں سمجھے

فگار اناوی




کیا ملا عرض مدعا سے فگارؔ
بات کہنے سے اور بات گئی

فگار اناوی