EN हिंदी
بیکل اتساہی شیاری | شیح شیری

بیکل اتساہی شیر

27 شیر

تم بن چاند نہ دیکھ سکا ٹوٹ گئی امید
بن درپن بن نین کے کیسے منائیں عید

بیکل اتساہی




کواڑ بند کرو تیرہ بختو سو جاؤ
گلی میں یوں ہی اجالوں کی آہٹیں ہوں گی

بیکل اتساہی




لوگ تو جا کے سمندر کو جلا آئے ہیں
میں جسے پھونک کر آیا وہ مرا گھر نکلا

بیکل اتساہی




نہ جانے کون سا نشہ ہے ان پہ چھایا ہوا
قدم کہیں پہ ہیں پڑتے کہیں پہ چلتے ہیں

بیکل اتساہی




نشتر چاہے پھول سے برف سے مانگے خون
دھوپ کھلائے چاند کو اندھے کا قانون

بیکل اتساہی




پیسے کی بوچھار میں لوگ رہے ہمدرد
بیت گئی برسات جب موسم ہو گیا سرد

بیکل اتساہی




ٹرین چلی تو چل پڑے کھیتوں کے سب جھاڑ
بھاگ رہے ہیں ساتھ ہی جنگل اور پہاڑ

بیکل اتساہی




یوں تو کئی کتابیں پڑھیں ذہن میں مگر
محفوظ ایک سادہ ورق دیر تک رہا

بیکل اتساہی




وہ تھے جواب کے ساحل پہ منتظر لیکن
سمے کی ناؤ میں میرا سوال ڈوب گیا

بیکل اتساہی