راز سر بستہ ہے محفل تیری
جو سمجھ لے گا وہ تنہا ہوگا
باقی صدیقی
تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے
باقی صدیقی
تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں
ہم سا پتھر بھی کوئی کیا ہوگا
باقی صدیقی
تیرے غم سے تو سکون ملتا ہے
اپنے شعلوں نے جلایا ہم کو
باقی صدیقی
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں
باقی صدیقی
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
باقی صدیقی
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
باقی صدیقی
تم بھی الٹی الٹی باتیں پوچھتے ہو
ہم بھی کیسی کیسی قسمیں کھاتے ہیں
باقی صدیقی
پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں
باقی صدیقی

