EN हिंदी
باقر مہدی شیاری | شیح شیری

باقر مہدی شیر

20 شیر

مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے
میں تنہا آدمی کی دوستی ہوں

باقر مہدی




جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں
خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں

باقر مہدی




کافری عشق کا شیوہ ہے مگر تیرے لیے
اس نئے دور میں ہم پھر سے مسلماں ہوں گے

باقر مہدی




کبھی تو بھول گئے پی کے نام تک ان کا
کبھی وہ یاد جو آئے تو پھر پیا نہ گیا

باقر مہدی




میرے صنم کدے میں کئی اور بت بھی ہیں
اک میری زندگی کے تمہیں راز داں نہیں

باقر مہدی




سیلاب زندگی کے سہارے بڑھے چلو
ساحل پہ رہنے والوں کا نام و نشاں نہیں

باقر مہدی




یہ سوچ کر تری محفل سے ہم چلے آئے
کہ ایک بار تو بڑھ جائے حوصلہ دل کا

باقر مہدی




یہ کس جگہ پہ قدم رک گئے ہیں کیا کہیے
کہ منزلوں کے نشاں تک مٹا کے بیٹھے ہیں

باقر مہدی




جانے کن مشکلوں سے جیتے ہیں
کیا کریں کوئی مہرباں نہ رہا

باقر مہدی