نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
while unknowing of myself, in others faults did often see
when my own shortcomings saw, found no one else as bad as me
بہادر شاہ ظفر
مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج
عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے
بہادر شاہ ظفر
میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے فرہاد و قیس
کیا انہی دونوں کے حصے میں قضا تھی میں نہ تھا
بہادر شاہ ظفر
لوگوں کا احسان ہے مجھ پر اور ترا میں شکر گزار
تیر نظر سے تم نے مارا لاش اٹھائی لوگوں نے
I owe people a favour and I am grateful to you
they carried my coffin when with a glance you slew
بہادر شاہ ظفر
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
my heart, these dismal ruins, cannot now placate
who can find sustenance in this unstable state
بہادر شاہ ظفر
لڑا کر آنکھ اس سے ہم نے دشمن کر لیا اپنا
نگہ کو ناز کو انداز کو ابرو کو مژگاں کو
بہادر شاہ ظفر
کیا تاب کیا مجال ہماری کہ بوسہ لیں
لب کو تمہارے لب سے ملا کر کہے بغیر
بہادر شاہ ظفر
کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گر
جو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے
بہادر شاہ ظفر
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
بہادر شاہ ظفر

