EN हिंदी
اسرار الحق مجاز شیاری | شیح شیری

اسرار الحق مجاز شیر

33 شیر

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود
ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

I had hoped she would unveil at her own behest
and she waits for someone to make a request

اسرار الحق مجاز




روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے
اک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے

اسرار الحق مجاز




روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے
ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ

اسرار الحق مجاز




پھر مری آنکھ ہو گئی نمناک
پھر کسی نے مزاج پوچھا ہے

اسرار الحق مجاز




پھر کسی کے سامنے چشم تمنا جھک گئی
شوق کی شوخی میں رنگ احترام آ ہی گیا

اسرار الحق مجاز




کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی
میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا

اسرار الحق مجاز




کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی
کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا

اسرار الحق مجاز




سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے
سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے

اسرار الحق مجاز




مری بربادیوں کا ہم نشینو
تمہیں کیا خود مجھے بھی غم نہیں ہے

اسرار الحق مجاز