اک شفاف طبیعت والا صحرائی
شہر میں رہ کر کس درجہ چالاک ہوا
عنبر بہرائچی
یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ
مگر وہی تو بہت کامیاب چہرا تھا
عنبر بہرائچی
اس نے ہرذرے کو طلسم آباد کیا
ہاتھ ہمارے لگی فقط حیرانی ہے
عنبر بہرائچی
سوپ کے دانے کبوتر چک رہا تھا اور وہ
صحن کو مہکا رہی تھی سنتیں پڑھتے ہوئے
عنبر بہرائچی
روز ہم جلتی ہوئی ریت پہ چلتے ہی نہ تھے
ہم نے سائے میں کجھوروں کے بھی آرام کیا
عنبر بہرائچی
میرا کرب مری تنہائی کی زینت
میں چہروں کے جنگل کا سناٹا ہوں
عنبر بہرائچی
جانے کیا سوچ کے پھر ان کو رہائی دے دی
ہم نے اب کے بھی پرندوں کو تہہ دام کیا
عنبر بہرائچی
جانے کیا برسا تھا رات چراغوں سے
بھور سمے سورج بھی پانی پانی ہے
عنبر بہرائچی
جان دینے کا ہنر ہر شخص کو آتا نہیں
سوہنی کے ہاتھ میں کچا گھڑا تھا دیکھتے
عنبر بہرائچی

