مونس شب رفیق تنہائی
درد دل بھی کسی سے کم تو نہیں
علی جواد زیدی
ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا
ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں
علی جواد زیدی
جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں
وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کے
علی جواد زیدی
جب کبھی دیکھا ہے اے زیدیؔ نگاہ غور سے
ہر حقیقت میں ملے ہیں چند افسانے مجھے
علی جواد زیدی
جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا
وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے
علی جواد زیدی
لذت درد ملی عشرت احساس ملی
کون کہتا ہے ہم اس بزم سے ناکام آئے
علی جواد زیدی
مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم
علی جواد زیدی
پی تو لوں آنکھوں میں امڈے ہوئے آنسو لیکن
دل پہ قابو بھی تو ہو ضبط کا یارا بھی تو ہو
علی جواد زیدی
یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی
اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے
علی جواد زیدی

