EN हिंदी
احمد ندیم قاسمی شیاری | شیح شیری

احمد ندیم قاسمی شیر

46 شیر

مجھے منظور گر ترک تعلق ہے رضا تیری
مگر ٹوٹے گا رشتہ درد کا آہستہ آہستہ

احمد ندیم قاسمی




ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے
کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا

احمد ندیم قاسمی




پا کر بھی تو نیند اڑ گئی تھی
کھو کر بھی تو رت جگے ملے ہیں

احمد ندیم قاسمی




ندیمؔ جو بھی ملاقات تھی ادھوری تھی
کہ ایک چہرے کے پیچھے ہزار چہرے تھے

احمد ندیم قاسمی




ندیمؔ جو بھی ملاقات تھی ادھوری تھی
کہ ایک چہرے کے پیچھے ہزار چہرے تھے

احمد ندیم قاسمی




مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں
مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے

احمد ندیم قاسمی




مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے
تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں

احمد ندیم قاسمی




میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن
چپ بھی تو بیان مدعا ہے

احمد ندیم قاسمی




مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوں
میں تیرے بغیر جی رہا ہوں

احمد ندیم قاسمی