EN हिंदी
احمد محفوظ شیاری | شیح شیری

احمد محفوظ شیر

22 شیر

یہیں گم ہوا تھا کئی بار میں
یہ رستہ ہے سب میرا دیکھا ہوا

احمد محفوظ




شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں
اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے

احمد محفوظ




سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظؔ
تو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

احمد محفوظ




تاریکی کے رات عذاب ہی کیا کم تھے
دن نکلا تو سورج بھی سفاک ہوا

احمد محفوظ




اس سے ملنا اور بچھڑنا دیر تک پھر سوچنا
کتنی دشواری کے ساتھ آئے تھے آسانی میں ہم

احمد محفوظ




اسے بھلایا تو اپنا خیال بھی نہ رہا
کہ میرا سارا اثاثہ اسی مکان میں تھا

احمد محفوظ




یہ کیسا خوں ہے کہ بہہ رہا ہے نہ جم رہا ہے
یہ رنگ دیکھوں کہ دل جگر کا فشار دیکھوں

احمد محفوظ




زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں
اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا

احمد محفوظ




یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر
سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو

احمد محفوظ