EN हिंदी
آفتاب حسین شیاری | شیح شیری

آفتاب حسین شیر

39 شیر

پتے کی بات بھی منہ سے نکل ہی جاتی ہے
کبھی کبھی کوئی جھوٹی خبر بناتے ہوئے

آفتاب حسین




لوگ کس کس طرح سے زندہ ہیں
ہمیں مرنے کا بھی سلیقہ نہیں

آفتاب حسین




کیا خبر میرے ہی سینے میں پڑی سوتی ہو
بھاگتا پھرتا ہوں جس روگ بھری رات سے میں

آفتاب حسین




کچھ ربط خاص اصل کا ظاہر کے ساتھ ہے
خوشبو اڑے تو اڑتا ہے پھولوں کا رنگ بھی

آفتاب حسین




کچھ اور طرح کی مشکل میں ڈالنے کے لیے
میں اپنی زندگی آسان کرنے والا ہوں

آفتاب حسین




کسی طرح تو گھٹے دل کی بے قراری بھی
چلو وہ چشم نہیں کم سے کم شراب تو ہو

آفتاب حسین




کن منظروں میں مجھ کو مہکنا تھا آفتابؔ
کس ریگزار پر ہوں میں آ کر کھلا ہوا

آفتاب حسین




کھلا رہے گا کسی یاد کے جزیرے پر
یہ باغ میں جسے ویران کرنے والا ہوں

آفتاب حسین




کرتا کچھ اور ہے وہ دکھاتا کچھ اور ہے
دراصل سلسلہ پس پردہ کچھ اور ہے

آفتاب حسین