سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں کیا ہوا ہے مجھے
بچھڑ کے تجھ سے عجب روگ لگ گیا ہے مجھے
آشفتہ چنگیزی
تلاش جن کو ہمیشہ بزرگ کرتے رہے
نہ جانے کون سی دنیا میں وہ خزانے تھے
آشفتہ چنگیزی
سونے سے جاگنے کا تعلق نہ تھا کوئی
سڑکوں پہ اپنے خواب لیے بھاگتے رہے
آشفتہ چنگیزی
سوال کرتی کئی آنکھیں منتظر ہیں یہاں
جواب آج بھی ہم سوچ کر نہیں آئے
آشفتہ چنگیزی
سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس بار
یہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے
آشفتہ چنگیزی
پہلے ہی کیا کم تماشے تھے یہاں
پھر نئے منظر اٹھا لایا ہوں میں
آشفتہ چنگیزی
نہ ابتدا کی خبر اور نہ انتہا معلوم
ادھر ادھر سے سنا اور بس اڑا لائے
آشفتہ چنگیزی
تیری خبر مل جاتی تھی
شہر میں جب اخبار نہ تھے
آشفتہ چنگیزی
سڑک پہ چلتے ہوئے آنکھیں بند رکھتا ہوں
ترے جمال کا ایسا مزہ پڑا ہے مجھے
آشفتہ چنگیزی

