EN हिंदी
آشفتہ چنگیزی شیاری | شیح شیری

آشفتہ چنگیزی شیر

35 شیر

کس کی تلاش ہے ہمیں کس کے اثر میں ہیں
جب سے چلے ہیں گھر سے مسلسل سفر میں ہیں

آشفتہ چنگیزی




تیزی سے بیتتے ہوئے لمحوں کے ساتھ ساتھ
جینے کا اک عذاب لیے بھاگتے رہے

آشفتہ چنگیزی




تجھ کو بھی کیوں یاد رکھا
سوچ کے اب پچھتاتے ہیں

آشفتہ چنگیزی




تجھ سے بچھڑنا کوئی نیا حادثہ نہیں
ایسے ہزاروں قصے ہماری خبر میں ہیں

آشفتہ چنگیزی




تجھے بھلانے کی کوشش میں پھر رہے تھے کہ ہم
کچھ اور ساتھ میں پرچھائیاں لگا لائے

آشفتہ چنگیزی




تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر
راستوں کے جال میں الجھا ہوں میں

آشفتہ چنگیزی




اونچی اڑان کے لیے پر تولتے تھے ہم
اونچائیوں پہ سانس گھٹے گی پتا نہ تھا

آشفتہ چنگیزی




یہ اور بات کہ تم بھی یہاں کے شہری ہو
جو میں نے تم کو سنایا تھا میرا قصہ ہے

آشفتہ چنگیزی




یہ بات یاد رکھیں گے تلاشنے والے
جو اس سفر پہ گئے لوٹ کر نہیں آئے

آشفتہ چنگیزی