EN हिंदी
منزیل شیاری | شیح شیری

منزیل

19 شیر

سب کو پہنچا کے ان کی منزل پر
آپ رستے میں رہ گیا ہوں میں

عبد الحمید عدم




صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں
منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

عبد الحمید عدم




کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

احمد فراز




عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

علامہ اقبال




چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم
یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ

انور سدید




راہ بر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میں
چپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا

آرزو لکھنوی




ایک منزل ہے مگر راہ کئی ہیں اظہرؔ
سوچنا یہ ہے کہ جاؤ گے کدھر سے پہلے

اظہر لکھنوی