EN हिंदी
چہررا شیاری | شیح شیری

چہررا

25 شیر

بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے
کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا

آغا شاعر قزلباش




اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے
وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب

احمد مشتاق




بھول گئی وہ شکل بھی آخر
کب تک یاد کوئی رہتا ہے

احمد مشتاق




اک رات چاندنی مرے بستر پہ آئی تھی
میں نے تراش کر ترا چہرہ بنا دیا

احمد مشتاق




تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی




آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا
مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

اختر سعید خان




جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا تیرا پھول سا چہرہ
ہماری سب کتابوں میں اک ایسا باب رہتا تھا

اسعد بدایونی