EN हिंदी
ولی عزلت شیاری | شیح شیری

ولی عزلت شیر

27 شیر

محکمے میں عشق کے ہے یارو دیوانے کا شور
میرے دل دینے کا غل اس کے مکر جانے کا شور

ولی عزلت




میں صحرا جا کے قبر حضرت مجنوں کو دیکھا تھا
زیارت کرتے تھے آہو بگولہ طوف کرتا تھا

ولی عزلت




کچھ غور کا جوہر نہیں خود فہمی میں حیراں ہیں
اس عصر کے فاضل سب سطحی ہیں جوں آئینہ

ولی عزلت




کہا جو میں نے گیا خط سے ہائے تیرا حسن
تو ہنس کے مجھ کو کہا پشم سے گیا تو گیا

ولی عزلت




جو ہم یہ طفلوں کے سنگ جفا کے مارے ہیں
بتوں کا شکوہ نہیں ہم خدا کے مارے ہیں

ولی عزلت




اے سالک انتظار حج میں کیا تو ہکا بکا ہے
بگولے سا تو کر لے طوف دل پہلو میں مکہ ہے

ولی عزلت




جس پر نظر پڑے اسے خود سے نکالنا
روشن دلوں کا کام ہے مانند آئینہ

ولی عزلت




جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ
نماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخ

ولی عزلت




جلد مر گئے تری حسرت سیتی ہم
کہ ترا دیر کا آنا نہ گیا

ولی عزلت