EN हिंदी
والی آسی شیاری | شیح شیری

والی آسی شیر

19 شیر

عشق بن جینے کے آداب نہیں آتے ہیں
میرؔ صاحب نے کہا ہے کہ میاں عشق کرو

والی آسی




زمانہ اور ابھی ٹھوکریں لگائے ہمیں
ابھی کچھ اور سنور جانا چاہتے ہیں ہم

والی آسی




وہاں ہمارا کوئی منتظر نہیں پھر بھی
ہمیں نہ روک کہ گھر جانا چاہتے ہیں ہم

والی آسی




انہیں بھی جینے کے کچھ تجربے ہوئے ہوں گے
جو کہہ رہے ہیں کہ مر جانا چاہتے ہیں ہم

والی آسی




سب بچھڑے ساتھی مل جائیں مرجھائیں چہرے کھل جائیں
سب چاک دلوں کے سل جائیں کوئی ایسا کام کرو والیؔ

والی آسی




مصلیٰ رکھتے ہیں صہبا و جام رکھتے ہیں
فقیر سب کے لیے انتظام رکھتے ہیں

والی آسی




موج ہوا آب رواں اور یہ زمین و آسماں
اک روز سب جائیں گے تھک اللہ بس باقی ہوس

والی آسی




میں جس کا جواب نہ دے پاؤں
ایسا بھی کوئی سوال کرنا

والی آسی




کبھی بھولے سے بھی اب یاد بھی آتی نہیں جن کی
وہی قصے زمانے کو سنانا چاہتے ہیں ہم

والی آسی