میری دیوانگئ عشق ہے اک درس جہاں
میرے گرنے سے بہت لوگ سنبھل جاتے ہیں
واحد پریمی
کس شان کس وقار سے کس بانکپن سے ہم
گزرے ہیں آزمائش دار و رسن سے ہم
واحد پریمی
کسی کو بے سبب شہرت نہیں ملتی ہے اے واحدؔ
انہیں کے نام ہیں دنیا میں جن کے کام اچھے ہیں
واحد پریمی
کوئی گردش ہو کوئی غم ہو کوئی مشکل ہو
جس کو آنا ہو ہمارے وہ مقابل آئے
واحد پریمی
کوئی ہنگامۂ حیات نہیں
رات خاموش ہے سحر خاموش
واحد پریمی
کیوں شکوۂ بے مہرئ ساقی ہے لبوں پر
پینا ہے تو خود بڑھ کے پیو بادہ گسارو
واحد پریمی
میں اوروں کو کیا پرکھوں آئنۂ عالم میں
محتاج شناسائی جب اپنا ہی چہرا ہے
واحد پریمی
اف گردش حیات تری فتنہ سازیاں
اپنے وطن میں دور ہیں اہل وطن سے ہم
واحد پریمی
شخصیت فن کار معمہ نہیں واحدؔ
فن ہی میں ہوا کرتا ہے فن کار کا پرتو
واحد پریمی

