EN हिंदी
واحد پریمی شیاری | شیح شیری

واحد پریمی شیر

28 شیر

کیوں شکوۂ بے مہرئ ساقی ہے لبوں پر
پینا ہے تو خود بڑھ کے پیو بادہ گسارو

واحد پریمی




کوئی ہنگامۂ حیات نہیں
رات خاموش ہے سحر خاموش

واحد پریمی




کوئی گردش ہو کوئی غم ہو کوئی مشکل ہو
جس کو آنا ہو ہمارے وہ مقابل آئے

واحد پریمی




کسی کو بے سبب شہرت نہیں ملتی ہے اے واحدؔ
انہیں کے نام ہیں دنیا میں جن کے کام اچھے ہیں

واحد پریمی




کس شان کس وقار سے کس بانکپن سے ہم
گزرے ہیں آزمائش دار و رسن سے ہم

واحد پریمی




اندھیروں میں اجالے ڈھونڈھتا ہوں
یہ حسن ظن ہے یا دیوانہ پن ہے

واحد پریمی




کعبہ و دیر و کلیسا کا تجسس کیوں ہو
جب مرے قلب ہی میں میرا خدا ہے یارو

واحد پریمی




اس طرح حسن و محبت کی کرو تم تفسیر
مجھ کو آئینہ کہو اور انہیں تصویر کہو

واحد پریمی




ہجوم غم سے ملی ہے حیات نو مجھ کو
ہجوم درد سے پایا ہے حوصلہ میں نے

واحد پریمی