مجھ کو اکثر اداس کرتی ہے
ایک تصویر مسکراتی ہوئی
وکاس شرما راز
مدتیں ہو گئیں حساب کئے
کیا پتا کتنے رہ گئے ہیں ہم
وکاس شرما راز
محبت کے آداب سیکھو ذرا
اسے جان کہہ کر پکارا کرو
وکاس شرما راز
مری عروج کی لکھی تھی داستاں جس میں
مرے زوال کا قصہ بھی اس کتاب میں تھا
وکاس شرما راز
میری کوشش تو یہی ہے کہ یہ معصوم رہے
اور دل ہے کہ سمجھ دار ہوا جاتا ہے
وکاس شرما راز
میں عدم کی پناہ گاہ میں ہوں
چھو بھی سکتی نہیں حیات مجھے
وکاس شرما راز
میں تو کسی جلوس میں گیا نہیں
مرا مکان کیوں جلا دیا گیا
وکاس شرما راز
ایسی پیاس اور ایسا صبر
دریا پانی پانی ہے
وکاس شرما راز
کون تحلیل ہوا ہے مجھ میں
منتشر کیوں ہیں عناصر میرے
وکاس شرما راز

