EN हिंदी
وکاس شرما راز شیاری | شیح شیری

وکاس شرما راز شیر

32 شیر

رفتہ رفتہ قبول ہوں گے اسے
روشنی کے لیے نئے ہیں ہم

وکاس شرما راز




میں تو کسی جلوس میں گیا نہیں
مرا مکان کیوں جلا دیا گیا

وکاس شرما راز




میں عدم کی پناہ گاہ میں ہوں
چھو بھی سکتی نہیں حیات مجھے

وکاس شرما راز




میری کوشش تو یہی ہے کہ یہ معصوم رہے
اور دل ہے کہ سمجھ دار ہوا جاتا ہے

وکاس شرما راز




مری عروج کی لکھی تھی داستاں جس میں
مرے زوال کا قصہ بھی اس کتاب میں تھا

وکاس شرما راز




محبت کے آداب سیکھو ذرا
اسے جان کہہ کر پکارا کرو

وکاس شرما راز




مدتیں ہو گئیں حساب کئے
کیا پتا کتنے رہ گئے ہیں ہم

وکاس شرما راز




مجھ کو اکثر اداس کرتی ہے
ایک تصویر مسکراتی ہوئی

وکاس شرما راز




یہ صدا کاش اسی نے دی ہو
اس طرح وہ ہی بلاتا ہے مجھے

وکاس شرما راز