نیند آئے تو کچھ سراغ ملے
کون ہے دفن میرے خوابوں میں
تری پراری
محبت میں شکایت کر رہا ہوں
شکایت میں محبت کر رہا ہوں
تری پراری
اے ہوا تو ہی اسے عید مبارک کہیو
اور کہیو کہ کوئی یاد کیا کرتا ہے
تری پراری
میں حاصل ہو چکا ہوں جس بدن کو
اسی سے پوچھتا ہوں کیا ملا ہے
تری پراری
میں اپنے درمیاں سے ہٹ چکا ہوں
تو پھر کیا درمیاں رکھا ہوا ہے
تری پراری
کتنی دل کش ہیں یہ بارش کی پھواریں لیکن
ایسی بارش میں مری جان بھی جا سکتی ہے
تری پراری
کسی پر بھی یقیں کر لیتے ہو تم
تمہارے ساتھ کیا دھوکہ ہوا ہے
تری پراری
کئی لاشیں ہیں مجھ میں دفن یعنی
میں قبرستان ہوں شروعات ہی سے
تری پراری
جسے تم ڈھونڈتی رہتی ہو مجھ میں
وہ لڑکا جانے کب کا مر چکا ہے
تری پراری

