انہیں کو عرض وفا کا تھا اشتیاق بہت
انہیں کو عرض وفا نا گوار گزری ہے
سید عابد علی عابد
مجھے دھوکا ہوا کہ جادو ہے
پاؤں بجتے ہیں تیرے بن چھاگل
سید عابد علی عابد
ساقیا ہے تری محفل میں خداؤں کا ہجوم
محفل افروز ہو انساں تو مزا آ جائے
سید عابد علی عابد
شب ہجراں کی درازی سے پریشان نہ تھا
یہ تیری زلف رسا ہے مجھے معلوم نہ تھا
سید عابد علی عابد
شرع و آئین کی تعزیر کے با وصف شباب
لب و رخسار کی جانب نگراں ہے کہ جو تھا
سید عابد علی عابد
سبو اٹھا کہ یہ نازک مقام ہے ساقی
نہ اہرمن ہے نہ یزداں ہے دیکھیے کیا ہو
سید عابد علی عابد
تیرے خوش پوش فقیروں سے وہ ملتے تو سہی
جو یہ کہتے ہیں وفا پیرہن چاک میں ہے
سید عابد علی عابد
یہ حادثہ بھی ہوا ہے کہ عشق یار کی یاد
دیار قلب سے بیگانہ وار گزری ہے
سید عابد علی عابد
یہی دل جس کو شکایت ہے گراں جانی کی
یہی دل کار گہ شیشہ گراں ہوتا ہے
سید عابد علی عابد

